ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ’فوجداری قانون ہراساں کرنے کا ہتھیار نہیں‘ سپریم کورٹ سے ارنب کی عبوری ضمانت میں توسیع

’فوجداری قانون ہراساں کرنے کا ہتھیار نہیں‘ سپریم کورٹ سے ارنب کی عبوری ضمانت میں توسیع

Sat, 28 Nov 2020 12:51:33    S.O. News Service

نئی دہلی،28؍نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) عدالت عظمیٰ نے ری پبلک ٹی وی کے چیف ایڈیٹر ارنب گوسوامی کو خودکشی پر اکسانے کے معاملے میں دی گئی عبوری ضمانت کی تفصیلی وجوہات جمعہ کے روز بتائیں، جس کے مطابق مہاراشٹرا پولیس کے ذریعہ درج ایف آئی آر سے بادی النظر میں ان کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوتا ہے-عدالت نے اپنے55صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ارنب گوسوامی کو دی گئی عبوری ضمانت بمبئی ہائی کورٹ میں ان کی زیر التواء درخواست ضمانت کو نمٹائے جانے تک جاری رہے گی- اتناہی نہیں بلکہ اگر ہائی کورٹ کا فیصلہ ارنب کے خلاف آتا ہے، تب بھی انہیں ہائی کورٹ کے فیصلے کے دن سے چار ہفتوں تک عبوری ضمانت کا تحفظ حاصل رہے گا-جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندرا بینرجی کی ڈویڑن بنچ نے11نومبر کو ارنب اور دو دیگر ملزمان کو عبوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کرے گی-عدالت نے آج اپنے تفصیلی حکم میں کہا کہ مہاراشٹرا پولیس کے ذریعہ درج کی جانے والی ایف آئی آر سے بادی النظر میں ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوتے ہیں - عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ہائی کورٹ اور نچلی عدالتوں کو ریاست کے ذریعہ فوجداری قانون کے غلط استعمال کے تئیں محتاط رہنا چاہئے-فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس عدالت کے دروازے ان شہریوں کے لئے بند نہیں کیے جاسکتے ہیں جن کے خلاف بادی النظر میں ریاست کے اقتدار کا غلط استعمال ہونے کے اشارے مل رہے ہیں -بنچ کا یہ بھی کہنا ہے کہ عدالتوں کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ جرائم کے خلاف بنائے گئے قوانین کو کسی کو ستانے کا اوزارنہیں بنایا جائے-


Share: